دارالعلوم منظر اسلام اور مدرسہ دیو بند

Abstract خلاصہ

دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم منظراسلام کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو مدرسہ دیوبند جس وقت تعمیرہوا اس وقت مولانا کی عمر شریف گیارہ برس تھی۔ کسی چیز کا قدیم ہونا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ، جیساکہ خود اکابر دیوبند نے لکھا ہے۔ مدرسہ دیوبند کے کارکنوں کی اکثریت انگریزوں کے وفاداروں کی تھی اور ایک لیفٹینٹ گورنر کا یہ بیان، مدرسہ سرکار کے خلاف نہیں سرکار کے حق میں ہے ۔ اسکے علاوہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندووں کی سرپرستی بھی اسے پوری طرح حاصل ہے جبکہ منظراسلام ہمیشہ سے انگریزوں اور ہندووں کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے ۔ پھر علوم میں دسترس کے لحاظ سے مولانا کے دور سے لیکر آج تک منظراسلام کے مہتمم حضرات ہدطولہ رکھتے ہیں۔ جبکہ دیو بند کے بانی اول ، بانی ثانی اور بانی ثالث پڑھانے کی استعداد بھی نہیں رکھتے تھے۔

Author/Editor مصنف ؍ مرتب

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

86

Files

199-206.pdf

Citation

حسن علی رضوی،علامہ مولانا, “دارالعلوم منظر اسلام اور مدرسہ دیو بند,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed September 24, 2018, http://research.net.pk/items/show/86.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 317 (31 views)