جنوبی ایشیاء میں اسلام کی نشا ۃ ثا نیہ کا علمبردار، منظر اسلام

Abstract خلاصہ

یکم محرم الحرام ۱۴۲۲ءکو صد سالہ یوم تایس منظراسلام منایا گیا۔ جنگ آزادی سے پہلے ہندستان کے مختلف شہروں میں بڑے مدارس تھےلیکن انگریزوں نے جبراً بند کرادئیےتھے۔ان حالات میں العلماءدیوبند اہلسنت کے عقائد پرڈاکہ ڈالنے کیلئے مختلف ہتھکنڈےاستعمال کرتے تھے۔ جب حاجی سید عابد حسین نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی تو یہ انگریز نوازمولوں انکی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاکر اسکے انتظامی معاملات میں مخیل ہوئےاوررفتہ رفتہ وہاں سے اپنے ناپاک عزائم کا کام شروع کیا۔ ان حالات کے پیش نظردارالعلوم منظراسلام کا قیام عمل میں آیاجسکا انتظام مولانا نے اپنے بڑے صاحبزادے کے ہاتھ میں دیا ۔ اس وقت جونصاب مروج تھا،جو تعلیمی معیار تھا اسکااندازہ اس سندحدیث سے لگایا جاسکتا ہےجو مولانا کی حیات میں جاری ہوئی۔ مولانا سائنس سے اٹھانے کے خلاف نہ تھےلیکن اسکے غلط نظریات کاعلوم اسلامی کی روشنی میں صحیح کرنے کے خواہ تھے۔ منظراسلام کا ہندوستانی سیاست میں بھی ایک اہم کردار رہا ہے ۔ جب گاندھی اورانگریز و بدمذہبوں کی طرف سے مسلمانوں کے عقیدہ پر ضرب لگائی جارہی تھی اس وقت یہاں کے طلبہ اور ذمہ داران نے قریہ قریہ جاکر مسلمانوں کے عقیدہ کا تحفظ کیا ، متحدہ ہندستان کی آزادی کی تحریک جو گاندھی نے شروع کی تھی ۔ اس تحریک میں مسلمانوں کی شمولیت کے خلاف فتویٰ بھی یہیں سے جاری ہوا غرض یہ کہ دارالعلوم منظراسلام ،اسلام کی نشان ثانیہ کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

Author/Editor مصنف ؍ مرتب

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

85

Files

185-197.pdf

Citation

وجاہت رسول قادری، سید, “جنوبی ایشیاء میں اسلام کی نشا ۃ ثا نیہ کا علمبردار، منظر اسلام,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed April 22, 2018, http://research.net.pk/items/show/85.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 245 (23 views)