دو قومی نظریہ اور مولانا احمد رضا خان بریلوی

Abstract خلاصہ

دو قومی نظریے کے مطابق مسلمان بحیثیت قوم ایک ہیں اور کسی دوسرے مذہب سے انکا اتحاد غیر فطری ہے۔یہ نظریہ ہی پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے۔انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کی ابتدا میں دو قومی نظریہ کی تجدید اما م احمد رضا کے اعزازات میں سے ہے ۔قائد اعظم اور علامہ اقبال سے بہت پہلے امام احمد رضا اپنے فتاوٰی میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے اتحاد کو غیر شرعی قرار دے چکے تھے۔تحریک خلافت ،تحریک ترک موالات اور ندوۃ العلما سے متعلق ان کی تصانیف اس کا بین ثبوت ہیں۔احقاق حق اور ابطال باطل کی اس جدوجہد میں آپ نے اپنوں یا غیروں کسی کی پرواہ نہ کی۔تحریک پاکستان میں علما و مشائخ اہلسنت بلخصوص خلفا و تلامذہ امام احمد رضا کا قائدانہ کردار اسی دو قومی نظریہ کی بازگشت تھی۔ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی معروف محقق و مورخ ہیں ۔تحریک پاکستان سے متعلق آپ کی متعدد تصانیف شہرت کی حامل ہیں اور قیام پاکستان کی تاریخ کو غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔یوم آزادی کے موقع پر آپکی تحریر کا ایک اقتباس یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

Author/Editor مصنف ؍ مرتب

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

763

Journal Name

Volume

Page Range

236-240

Files

236-240.pdf

Citation

اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر, “دو قومی نظریہ اور مولانا احمد رضا خان بریلوی,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed October 22, 2018, http://research.net.pk/items/show/763.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 757 (7 views)