امام احمد رضا اور تجارت و بینکنگ کا نظریہ

Abstract خلاصہ

روزبروز تجارت وبنکاری نظام (banking system) کی اہمیت وافادیت بڑھنے ،تجارت کی اہمیت وافادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا نے بھی مسلمانوں کو تجارت صنعت وحرفت اوراپنے اسلامی بنکاری نظام کو فروغ دینے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ مولانا نے اپنے مختلف فتاویٰ اور تصانیف میں تجارت ، اقتصادیات ومعاشیات اور بنکاری کے نظریوں واصولوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ مولانا نے اپنی ایک کتاب تصانیف (تدبیرفلاح و نجات واصلاح ) میں ملت کی بحالی کیلئے جو چار نکات پیش کئے ہیں وہ تجارت ،معاشیات و بنکاری کے نظریہ کے اعتبارسے بہت اہم ہیں ۔ وہ نکات اور مولانا کے بے سودی اسلامی بینک کے ذریعہ نفع لینے کے مختلف طریقے ،انکی ایک تصنیف کا حوالہ بھی اس مقالے میں دیا ہے ۔ پروفیسررفیع اللہ اور ڈاکٹر ہارون کے جائزے اور ان سے الگ ہٹکر انکے چار نکات نیز رسالہ( کفل الفقیھہ الفاھم ) اردوترجمہ کی روشنی میں مولانا کے تجارتی وبنکاری نظریات کا جائزہ اس مقالے میں شامل ہے۔ جس سے پتہ چلا مولانا قوم کو کفر وشرک کی ہر جکڑ سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیےانہوں نے مسلمانوں کو معاشی طور پرمضبوط ہوکر سیاسی و سماجی اعتبار سے مضبوط وطاقتور ہونے کی تلقین کی اور یہ تجارت و صنعت و حرفت ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔

Author/Editor مصنف ؍ مرتب

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

51

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

15-20

Files

15-20.pdf

Citation

عبد النعیم عزیزی، ڈاکٹر, “امام احمد رضا اور تجارت و بینکنگ کا نظریہ,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed October 18, 2018, http://research.net.pk/items/show/51.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 65 (54 views)