ماجرا ایک مبہم شعر کا، آسیؔ سکندر پوری کے شعر سے متعلق وضاحت

Abstract خلاصہ

تمام اصناف سخن میں نعت مشکل ترین صنف سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ فن ہے۔ جس میں احساسات و خیالات کا افراط سے پاک ہونا ضروری اوراحتیاط واعتدال شرط ہے۔ حضرت آسی کا ایک شعرجس میں آپ نے سرور کائنات کے مقام ومرتبہ کی جھلک دکھائی ہے۔ جس پر کم سمجھ لوگ شرک وکفر کا فتویٰ دینے لگے اور بعض تو اس شعر کو مولانا کا شعر بتاتے ہیں،جو خلاف واقعہ ہے ۔ ان دانشوران قوم کے اعتراضات وخیالات کا دیدہ ودانستہ جائزہ اور ان صوفیائے کرام اور عرفائے حق کے اقوال میں اسطرح پایاجانا کوئی تعجب نہیں جو وحدۃالوجود ،نبی اقدس کو تعین اول کی حیثیت سے مانتے ہیں، انکے مزکوہ اقوال کی روشنی میں حضرت آسی کا شعر بے غبار واعتراض سے پاک ہے۔ امجد علی کا فتویٰ میں شعر کے متعلق ایک استفتاکے جواب میں دیا تھا مقالے میں شامل ہے ، جس سے ثابت ہوا حضرت آسی زبردست عالم دین ،صوفی ،عارف اللہ تھے۔ انکا مقام کافی اونچا تھا۔ مسلہ تصوف میں شاعرانہ رنگ میں روشنی ڈالنا اورمجاز کے پردے میں حقائق واسرار کی گرہ کشائی انکا طہرہ امتیاز ہے۔

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

255

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

14-19

Files

14-19.pdf

Citation

افروز قادری چریاکوٹی، مولانا محمد, “ماجرا ایک مبہم شعر کا، آسیؔ سکندر پوری کے شعر سے متعلق وضاحت,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed September 25, 2018, http://research.net.pk/items/show/255.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 122 (43 views)