تحریک ترک موالات پر امام احمد رضا بریلوی اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا یکساں موقف

Abstract خلاصہ

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب ترکوں پرانگریزوں کے مظالم کے خلاف تحریک خلافت کا آغاز ہوا تو کچھ ہی عرصہ میں گاندھی جو جنگ میں ہند فوجیوں کے زبردست حمایتی تھے۔ اس تحریک میں اپنے اصل مقصد کو لیکر شامل ہوئے اپنا جال بچھاکرکچھ علماءکو کیسے اپنا آلہ کار بنایا اور تحریک ہجرت اور تحریک ترک موالات چلاکر شعائر اسلام کی بے حرمتی کی اسکی تفصیل اس مقالے میں شامل ہے۔ مولانا سے اسلام کی بے حرمتی نہیں دیکھی گئ قلمی جہاد سے ہندوستانی مسلمانوں کو ڈوبنے سے بچا نے کیلے کتب تحریر کرکے شرعی رہنمائی کی اور انکے مطالعے سے سیاسی افکار ونظریات سے متعلق نکات سامنے آئے وہ مقالے میں ذکر کئے گئے ہیں۔ ابوالکلام آزاد اور انکے ساتھیوں نے سورہ ممتحنہ آیت سے ہندوؤں سے اتحاد ومحبت کا سلوک جائز ہے اسکے جواب میں مولانا نے اس غلطی کی زبردست گرفت میں المحجۃالموتمنۃ فی آیۃ الممتحنۃ کتاب تحریرکی اور چند اقتباسات مقالے میں درج کئے گئے ہیں۔ مہرعلی کے موقف اور مولانا کے موقف کے مطابق ہیں اور مہر علی کے نظریات کا خلاصہ مقالے میں شامل ہیں۔

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

205

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

142-152

Files

142-152.pdf

Citation

عطاء الرحمٰن قادری رضوی، حافظ محمد, “تحریک ترک موالات پر امام احمد رضا بریلوی اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا یکساں موقف,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed September 24, 2018, http://research.net.pk/items/show/205.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 88 (48 views)