امام احمد رضا اور نظریہ صوت و صدا

Abstract خلاصہ

مولانا نے۶۵سالہ زندگی میں ۶۵سے زائد علوم وفنون میں بھر پور مہارت ظاہر کری، سائنسی علوم میں کیمیا ، ارضیات ،جغرافیہ ،حیاتیات ونباتیات وعلم طبیعیات پرحاوی تھے۔ مولانانےمغربی سائنسدانوں کے مختلف نظریوں وتھیوریوں کا ابطال کیا،سائنس کو اسلامی رنگ دیکردینی علوم میں انکا استعمال کیا۔انہیں علوم دینیہ ،علم فقہ کا خادم بنادیا۔ علم طبعیات کو ماہرین طبعیات نے سائنسی علوم میں سب سے زیادہ اہم ومشکل علم تسلیم کرنے اور اسکو جن برانچوں میں تقسیم کیا،انکے نام ،مولانا نے علم طبعیات کی ان برانچوں میں اپنے نظریات پیش کئے ہیں۔ ثبوت کیلے مولانا کی تصانیف مقالے میں شامل ہیں۔طبعیات کی برانچ (صوت وصدا)پر بھی مولانا نے اپنے نظریات پیش کئے ہیں۔ آواز کے سلسلے میں مولانا نے مقالے میں بالتفصیل سائنسی انداز میں بحث کی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے مولانا نے بھی وہی نظریہ پیش کیا جوجدید طبعیات کی تھیوری ہے۔ مولانا کے نظریات سے واضح ہے۔ آواز توانائی ہے، آواز پہنچنے کیلے ملاء فاضل ضروری ہے۔ اس لیے تموج چاہیے،ہوا اور پانی دونوں آواز کے میڈیم ہیں۔

Author/Editor مصنف ؍ مرتب

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

185

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

21-24

Files

21-24.pdf

Citation

عبد النعیم عزیزی، ڈاکٹر, “امام احمد رضا اور نظریہ صوت و صدا,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed October 19, 2018, http://research.net.pk/items/show/185.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 279 (34 views)