افکار شیخ محدّث دہلوی و شیخ محدّث بریلوی، علمی تحقیقی جائزہ

Abstract خلاصہ

عبقری شخصیت شاہ عبدالحق محدث کی پیدائش ،ابتدائی تعلیم و تربیت ،والد کا نام ،سترہ سال کی عمرمیں تعلیم سے فارغ ہوکر مزید تعلیم کے حصول کیلے ماوراءالنہری علماءکے پاس تشریف لے جانے ، سلسلہ قادری میں بیعت کرنے ،آپکا انتقال ،نماز جنازہ ،حوض شمسی قبرستان کے کنارے دفن کرنے کا تذکرہ مقالے میں موجود ہے۔ چالیس سے زائد علوم پردسترس رکھنے ،۱۳۴سے زائد شروح،تراجم ،دیوان،تالیفات،تصنیفات جو ۲۳سے زائد عنوانات پر لکھی گیئں،اس بات کی دلیل ہے بچپن میں ہی آپکی تربیت اس نہج پر ہوئی صرف حصول علم پر ہی نظر رکھیں۔ مولانا کو اللہ تعالٰی نے یہ اعزازبخشا انکی سات نسلوں نے علم حدیث کی ترویج واشاعت کی جس سے ہندوستان ،پاکستان ،سری لنکا ،نیپال ،بنگلہ دیش کے کونے کونے میں یہ علم پہنچایا اور ہر طالب علم ان چشموں سے سیراب ہورہا ہے۔ ۱۰۰۰ھ میں حجاز سے واپس آنے کے بعد دہلی میں مولانا کے ایک دارالعلوم قائم کر نے اور اپنا بنایا ہوا نصاب پڑھانے کا ذکر مقالے میں کیاگیا ۔ مقالے میں موجود قول جسکا مزید تذکرہ شیخ محدث دہلوی نے اپنی ایک اور تصانیف مرج البحرین میں کیا ۔ دور حاضر کی مناسبت سے بہ ضمن افکار شیخ کے دوعنوانات بدعت و سیاست کا ایک اجمالی خاکہ مقالے میں بیان کیا ہے۔ جس سے پتہ چلا ممانعت پر کوئی دلیل شرعی نہ ہونا یہی جواز کی دلیل کافی ہے۔ محدث دہلوی نے عالم اسلام کی دینی ومعاشرتی اصلاح کے علاوہ میدان سیاست میں بھی بے شمارخدمات انجام دیں۔

Author/Editor مصنف ؍ مرتب

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

182

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

113-124

Files

113-124.pdf

Citation

یونس قادری، ڈاکٹر محمد, “افکار شیخ محدّث دہلوی و شیخ محدّث بریلوی، علمی تحقیقی جائزہ,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed September 22, 2018, http://research.net.pk/items/show/182.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 54 (57 views)