امام احمد رضا اور جدید اسلامی بینکاری

Abstract خلاصہ

دور حاضرمیں نظام بینکاری کسی بھی معاشرے کی معیشت میں ڈھانچے کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ نظام بینکاری کی تمام تر اہمیت کے باوجود یہ حقیقت چھپی ہوئی نہیں ہے سودی نظام انسانیت کیلےعمومی طور پر متوسط وغریب طبقے کیلے خصوصی طور پر نفع سے خالی وسخت ہے۔ مولانا نے امت مسلمہ کی سب سے پہلے اسلامی بینکاری کی طرف نہ صرف رہنمائی کی ،اسکے چلانے کے جائز طریقےبھی بیان کئے۔ مولانا نے مقالے کی سطور میں خط کشیدہ الفاظ میں مشارنہ،مضارنہ،اجارہ،بیع موجل،بیع مرابحہ وبیع استعناع کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان تمام طریقوں سے نفع لینے کی عملی مثالیں فتاویٰ رضویہ شریف کی ساتویں وآٹھویں جلدوں میں مفصل موجود ہیں۔ان میں سے چند ایک مثالیں اورچند سطور میں حصول نفع کی وہ جائز صورتیں بیان کی گئی ہیں ،جنہیں مولانا نے کفل الفقیہ میں فقہ حنفی کے قاضی خاں وسمرقندی کے حوالے سے نقل کیااس مقالے میں درج ہیں جس کی بحث سے پتہ چلا مولانا ہی وہ ذات ہیں جس نے سب سے پہلے نہ صرف اسلامی بینکاری کا تصور پیش کیا،چلانے کاطریقہ کار بھی بیان کیا۔آج امت مسلمہ مولانا کے بیان کردہ معاشی نکات کو اپنالیں توپھر سے اسلامی نظام معیشت کی بہتری ساری دنیا ماننے پر مجبور ہوجائےگی،نتیجہ نہ صرف مسلمان ساری انسانیت کو سود کی لعنت سے چھٹکارا مل جائے گا۔

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

175

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

64-70

Files

064-070.pdf

Citation

ابو بکر صدیق قا در ی عطا ری ،ڈاکٹر مفتی, “امام احمد رضا اور جدید اسلامی بینکاری,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed October 16, 2018, http://research.net.pk/items/show/175.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 99 (47 views)