بر صغیر میں تحریک ترک ِتقلید اور فتاوٰی رضویہ ،ایک تحقیقی جا ئزہ

Abstract خلاصہ

برصغیر کے اجلہ علماءوفقہاءکے علاوہ فقہاء حجازنے تحریک ترک تقلید کے کردار کو امت اسلامیہ کیلئےایک نہایت ہی گمراہ کن و بدعتی وجہنمی تحریک قرداردیا۔ یہ قطعی فیصلہ دیدیا ترک تقلید کے داعیوں کے پیچھے نماز پڑھنا حرام ہے ،انجانے میں پڑھنے اورپھر بعد میں خیال آنے پر اسکا اعادہ(لوٹانا) ضروری و واجب ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں شائع شدہ فتویٰ کی مطابق دور حاضر میں کسی بھی فقہاءسے الگ تھلگ رہنا انکی تقلید کو حرام قراردینابھی گمراہیت و دین اسلام سے دوری پر ڈ ٹے رہنا ہے۔غیر مقلدوں کے سربراہ میاں نذیر حسین دہلوی انگریزوں کے ہمدرد ایجنٹ تھے اسی وجہ سے انہوں نے دہلی میں انگریز خاتون کو تین ماہ تک اپنے گھر میں بغیر کسی پردے کے رکھا۔ جبکہ اس وقت مسلمانوں کا دہلی واطراف میں قتل عام ہورہا تھا اور بعد میں انہیں انگریزوں نے انکی انگریز دوستی کے سرٹیفیکٹ دیے جس کاعکس( الحیات بعدالممات) نامی کتاب میں شائع ہوچکا ہے۔ علماءحجاز کے روبرو مولانا نذیر حسین نے حلفیہ بیان دیا تھا وہ اورانکے ساتھی حنفی ہیں،لیکن ہندوستان آکراپنے ساتھیوں سمیت حلف سے منحرف ہوگئے۔ مقلدین کے خلاف کفروشرک کا مخاذ کھول دیااور ہر قسم کی احادیث کو ضعیف قرار دینے کا بیڑااٹھایا۔ مولانا اور انکے خلفاءوتلامذہ نے اس فرقہ غیرمقلدیہ کےرد میں کئ کتابیں تحریرکیں اور بالخصوص فتاویٰ رضویہ کے مختلف جلددوں میں تو انکے مضوعی علم کا نقاب چاک کرکے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان باتوں کی تفصیلی بحث اس مقالے میں کی گئی ہے۔

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

171

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

39-52

Files

039-052.pdf

Citation

جلال الدین نوری، پروفیسر ڈاکٹر, “بر صغیر میں تحریک ترک ِتقلید اور فتاوٰی رضویہ ،ایک تحقیقی جا ئزہ,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed June 24, 2018, http://research.net.pk/items/show/171.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 119 (36 views)