قاضی عبدالوحید فردوسی عظیم آبادی

Abstract خلاصہ

کوئے رضا آبادہے جس میں فوقیت پاکستان اور پاکستان کے ادارے (تحقیقات امام احمد رضا )کو حاصل ہے۔ بہار یونیورسٹی نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بہاریونیورسٹی میں ملک العلماءسےپہلے مولانا کے فکرونظرسے وابستہ اصحاب واشخاص اورعلماءومشائخ کا سلسلہ نجوم نظرآتا ہے ۔ جنکے کارناموں کا مطالعہ کئےبغیر ہم رضویات سے متعلق لٹریچر کو معتبر نہیں بناسکتے ۔اسکے لیے ایک ادارے کی ضرورت ہے۔ بہار میں سے قاضی عبدالوحید کا انتخاب،قاضی کا سلسلہ نسب،ولادت ووفات اور ۳۸سال کی مختصر عمر میں کارہائے نمایاں دیے کا تذکرہ مقا لے میں شامل ہے۔ قاضی نے مشرقی تعلیم حاصل کی اور انگریزی تعلیم سے انکاراسکی وجہ مغربی تعلیم کو مذہب کیلے سم قتل سمجھتے۔ ندوہ تحریک کے زور توڑنے کیلے قاضی نے ڈھائی سو علماءکے خطوط ہی شائع نہیں کئے بلکہ اسکے رد میں کئی جلسے پٹنہ اور کلکتہ میں کیے ۔ قاضی نےعلماءاہل سنت بریلی سے تعاون کی درخواست کی ۔پٹنہ اجلاس میں مولاناکی دو بار شرکت وآمد اور تسیری بار قاضی کی مزاج پرسی کیلے پٹنہ میں آمد کا تذکرہ مقالے میں کیا ۔ قاضی کے جنازے ومدفن کا ذکر مقا لے میں کیا گیا۔

Publication Date تاریخ اشاعت

Format

Language

Identifier

115

Journal Name

Volume

Issue

Page Range

13-18

Files

13-18.pdf

Citation

فاروق احمد صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر, “قاضی عبدالوحید فردوسی عظیم آبادی,” Research Network رابطہ تحقیق, accessed January 22, 2018, http://research.net.pk/items/show/115.

Item Relations

This item has no relations.

Social Bookmarking

Position: 56 (39 views)